Latest Urdu pathan jokes 2016


پٹھان : حکیم صاحب ، میرے دوست کی طبیعت بہت خراب ہے، اسے نیند نہیں آ رہی ہے. براہ نیند آنے کی کوئی دوائی دے دیجئے .

حکیم : یہ لو پڑیا اور اس میں سے پچیس پیسے کے سکے پر جتنی آئے اتنی رکھ کر پانی سے دے دینا ..؟

اگلے دن پٹھان گھبرایا ہوا آیا ...؟

پٹھان : حکیم صاحب، آپ نے جو دوائی دی تھی اس کھا کر میرے دوست کی موت ہو گئی.

حکیم : وہ کس طرح؟ یہ بتاؤ تم نے دوائی دی کس طرح تھی؟

پٹھان : آپ نے کہا تھا کہ پچیس پیسے کے سکے پر جتنی آئے اتنی رکھ کھلا دینا ... ؟
میرے پاس پچیس پیسے کا سکہ تو نہیں تھا . اس لیے میں نے پانچ پیسے کے سکے پر رکھ کر پانچ بار دے دی ...؟

***************

پٹھان اپنی بیلگاڈی میں اناج کے تھیلے لاد کر شہر لے جا رہا تھا. ابھی گاؤں سے نکلا ہی تھا کہ ایک كھڈڈے میں ان کی گاڑی پلٹ گئی. پٹھان گاڑی کو براہ راست کرنے کی کوشش کرنے لگا. تھوڑی ہی دور پر ایک درخت کے نیچے بیٹھے ایک راہگیر نے یہ دیکھ کر آواز دی، "ارے بھائی، پریشان مت ہو، آ جاؤ میرے ساتھ پہلے کھانا کھا لو پھر میں تمہاری گاڑی براہ راست کروا دوں گا."

پٹھان: شکریہ، پر میں اب نہیں آ سکتا. میرا دوست بشیر ناراض ہو جائے گا.

راہگیر: ارے تجھ اکیلے نہیں اٹھے گی گاڑی. تو آجا کھانا کھا لے پھر ہم دونوں اٹھائیں گے.

پٹھان : نہیں، بشیر بہت غصہ ہو جائے گا.

راہگیر : ارے مان بھی جاؤ. آ جاؤ تم میرے پاس .

پٹھان : ٹھیک ہے آپ کہتے ہیں تو آ جاتا ہوں.

پٹھان نے جم کر کھانا کھایا پھر بولا ، " اب میں چلتا ہوں گاڑی کے پاس اور آپ کو بھی چلئے . بشیر ناراض ہو جائے گا ."

راہگیر نے مسکراتے ہوئے کہا، "چلو میں آپ کو اتنا ڈر کیوں رہے ہو؟ ویسے ابھی مل گے بشیر ؟"

پٹھان : گاڑی کے نیچے ...؟

****************

ایک بار پٹھان جہاز میں ایک نشست پر بیٹھ گیا اور وہاں سے اٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا.

لوگوں نے بہت منت کی لیکن وہ نہ مانا اور بولا، "پٹھان کا کی زبان ایک ہے، ہم اپنا پھےسلا تبدیل نہیں کرے گا."

تبھی ایک آدمی آیا اور پٹھان کے کان میں کچھ بولا تو پٹھان بالکل اٹھ اگلی سیٹ پر بیٹھ گیا.

سب حیران ہو گئے اور اس آدمی سے پوچھا کہ اس نے ایسا کیا کہا جو پٹھان مان گیا.

آدمی نے کہا کہ میں نے پٹھان سے پوچھا کہ آپ کہاں جائیں گے؟

پٹھان نے مجھے کہا، "دبئی"

تو میں نے پٹھان سے کہا، "دبئی کی سیٹ اگلی ہے، یہ تو امریکہ کی سیٹ ہے."

******************

ایک بار پٹھان اپنی بیگم کے ساتھ میلہ دیکھنے گیا. میلے میں ہوائی جہاز کی سیر بھی کرواتے تھے.

پٹھان نے سوچا کہ چلو ہم بھی ہوائی جہاز کی سیر کر لیتے ہیں لیکن 200 روپے کی ٹکٹ سن پٹھان کا منہ لٹک گیا .

یہ دیکھ کر ڈرائیور بولا ، "آپ ہوائی جہاز میں آدھا گھنٹہ سیر کر سکتے ہیں. اس دوران اگر آپ کے منہ سے آواز نکلی تو میں آپ سے ٹکٹ کے پیسے لوں گا ، نہیں تو یہ سیر آپ کے لئے مفت ."

پٹھان سن کر خوش ہو گیا اور مان گیا .

دونوں جہاز میں بیٹھ گئے اور ڈرائیور نے اپنے جادو شروع کر دیے. چکر پیدا الٹا گھمایا اور کبھی ڈاو لگائی.

آخر میں اس نے جہاز کو نیچے اتارا.

نیچے اترنے کے بعد ڈرائیور بولا، "مان گئے پٹھان صاحب کو، اس طرح کے كرتبو کے ساتھ تو کسی کی بھی چیخ نکل جاتی لیکن آپ نے تو ایک آواز نہیں نکالی."

پٹھان نے آپ کی پیشانی سے پسینہ پونچھا اور بولا، "اب آپ کو کس طرح بتاؤں کہ کس طرح میں نے اپنے آپ کو روکا یہاں تک کہ بیگم کے باہر گرنے پر بھی میں نہیں بولا کیونکہ 200 روپے کا سوال تھا."

*******************

ایک دن پٹھان تھکا ہارا ڈاکٹر کے پاس آیا اور ڈاکٹر سے بولا، "ڈاکٹر صاحب میرے پڑوس میں بہت سارے کتے ہے جو رات دن بھونکتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے میں ایک گھڑی کے لئے بھی نہیں سو پاتا."

ڈاکٹر: اس میں کوئی تشویش کی بات نہیں ہے میں آپ کو کچھ نیند کی گولیاں دے دیتا ہوں وہ اتنی موثر ہے کہ آپ کو پتہ ہی نہیں چلے گا کہ تمہارے پڑوس میں کوئی کتا ہے بھی یا نہیں. یہ دوائیں آپ لے جاؤ اور اپنی پریشانی دور کرو.

کچھ ہفتے بعد پٹھان واپس ڈاکٹر کے پاس آیا اور پہلے سے زیادہ پریشان لگ رہا تھا اور ڈاکٹر سے کہنے لگا ، " ڈاکٹر صاحب آپ کی منصوبہ بندی ٹھیک نہیں تھی اب تو میں نے پہلے سے زیادہ تھک گیا ہوں."

ڈاکٹر: میں نہیں جانتا کہ یہ کس طرح ہو گیا جو دوائیاں دی تھی وہ نیند آنے کی سب سے بہترین گولیاں تھی. چلو پھر بھی آج میں تمہیں اس سے بھی زیادہ موثر گولیاں دیتا ہوں.

پٹھان : پتہ نہیں یہ واقعی اثر کریں گی یا نہیں کیونکہ میں ساری رات كتو کو پکڑنے میں لگا رہتا ہوں اور مشکل سے اگر ایک آدھ کو پکڑ بھی لوں تو اس کے منہ میں گولی ڈالنا بہت مشکل ہو جاتا ہے.

****************

پٹھان اپنی بیگم کو اسپتال میں داخل کروانے گیا تو وہاں اس کا سندھی دوست مل گیا.

سندھی : ارے تم یہاں کیا کر رہے ہو؟

پٹھان : وہ میں تمہاری بھابھی کو یہاں داخل کروانے لایا ہوں.

سندھی : کیوں کیا ہوا بھابھی کو ؟

پٹھان : اوئے کیا بتاؤں یار، باتھ روم میں نہا رہی تھی اور اچانک چکر کھا کر گر گئی. سر زمین سے جا ٹکرایا ، خون ہی خون بس یار.

سندھی : اوہ یار یہ تو بہت برا ہوا. اب کیسی ہیں؟

پٹھان: اب تو ٹھیک ہے. ڈاکٹر نے کہا کہ اگر اور تھوڑی دیر ہو جاتی تو کوما میں جا سکتی تھی.

سندھی: پھر بھابھی نے آواز لگائی کس طرح؟

پٹھان: او پاگل، آواز کہاں سے لگاتی، بے ہوش پڑی تھی وہ.

سندھی: پھر تمہیں کیسے پتہ چلا؟

پٹھان: ارے وہ تو اچھا ہوا سامنے والے مکان سے خان اس کو نہاتے ہوئے دیکھ رہا تھا. اسی نے آکر ہم کو بتایا ورنہ نہ جانے کیا ہو جاتا؟ خدا بھلا کرے اس خان کا، ورنہ آج کل تو بتا یار اچھا پڑوسی کہاں ملتا ہے؟

******************

پٹھان اپنے بیٹے کے لئے ایک کھلونا ٹرین خرید کر لایا.

کھلونا دینے کے کچھ دیر بعد جب وہ بیٹے کے کمرے میں گیا تو دیکھا کہ بچہ ٹرین سے کھیل رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ جس الو کے پٹھے کو اترنا ہے وہ اتر جائے، جس الو کے پٹھے کو چڑھ ہے وہ چڑھ جائے. ٹرین دو منٹ سے زیادہ نہیں ركےگي .

بچے کے منہ سے یہ زبان سن پٹھان کو غصہ آ گیا. اس نے بچے کو زور سے دو طمانچے لگائے اور پھر کبھی اس طرح سے نہ بولنے کی دھمکی دی اور بولا ، "میں دو گھنٹے کے لئے مارکیٹ جا رہا ہوں. تب تک آپ کو صرف پڑھوگے ، سمجھے. "

دو گھنٹے بعد بعد جب پٹھان لوٹ آیا تو بچے کو پڑھتے ہوئے دیکھا. یہ دیکھ کر اس کا دل پسیج گیا اور اس نے بچے کو پھر ٹرین سے کھیلنے کی اجازت دے دی.

اب کی بار اس نے بچے کو کہتے ہوئے سنا جس الو کے پٹھے کو اترنا ہے وہ اتر جائے، جس الو کے پٹھے کو چڑھ ہے وہ چڑھ جائے. گاڑی پہلے ہی ایک الو کے پٹھے کی وجہ سے دو گھنٹے لیٹ ہو چکی ہے.

*******************

پٹھان ٹرین میں ایک نشست پر تنہا لیٹا ہوا تھا.

ایک مسافر آیا اور بولا، "بھائی سائیڈ میں ہو جائیں ، مجھے بھی بیٹھنا ہے."

پٹھان : تجھے پتہ نہیں میں کون ہوں؟

مسافر خوف کے دوسری جگہ پر جا کر بیٹھ گیا.

پھر ایک پہلوان آیا اور بولا، سائیڈ میں جا چھوٹو مجھے بھی بیٹھنا ہے.

پٹھان نے اسے بھی روب دکھاتے ہوئے بولا، " تجھے پتہ نہیں میں کون ہوں ؟"

پہلوان نے پٹھان کی گردن پکڑ کے اٹھا لیا اور بولا ، "ہاں ، بول تو کون ہے ؟"

پٹھان : جی میں ' بیمار' ہوں، 2 دن سے تیز بخار ہے .

********************

پٹھان ایک بار میں بیٹھا شراب پی رہا تھا. تھوڑی دیر بعد اس کے ساتھ والی کرسی پر ایک اور آدمی آکر بیٹھ گیا. دونوں مستی میں شراب پی رہے تھے اور ٹی وی دیکھ رہے تھے.

خبروں کا وقت ہو گیا تھا تو دونوں خبریں دیکھنے لگے. خبروں میں دکھا رہے تھے کہ ایک آدمی ایک عمارت پر چڑھ کر کودنے کی تیاری کر رہا تھا.

پٹھان : آپ کو کیا لگتا ہے وہ كودےگا ؟

آدمی: جی ہاں بالکل ، وہ کود جائے گا.

پٹھان : نہیں مجھے نہیں لگتا .

آدمی: شرط لگا لو ، وہ کود جائے گا.

پٹھان : ٹھیک ہے ، یہ رہے 500 / - روپے وہ نہیں كودےگا .

آدمی نے بھی 500 / - روپے نکال کر میز پر رکھے اور کہا ، " وہ کود جائے گا. "

تھوڑی دیر بعد ہی بلڈنگ پر چڑھے آدمی نے چھلانگ لگا دی اور نیچے گرتے ہی مر گیا.

پٹھان بہت اداس ہو گیا اور آدمی کو 500 / - روپے پكڑانے لگا.

آدمی: میں یہ نہیں لے سکتا. میں نے اس سے پہلے والے بلیٹن میں دیکھا کہ وہ آدمی کود گیا تھا.

پٹھان : وہ تو میں نے بھی دیکھا تھا. پر یہ پتہ نہیں تھا کہ وہ دوبارہ بھی ایسا کر سکتا ہے.

******************

ایک بار پٹھان کو کسی کیس کے لئے گواہ کے طور پر عدالت میں پیش کیا گیا.

وکیل نے پٹھان سے زور سے چلاتے ہوئے پوچھا، "کیا یہ سچ نہیں کہ تم نے اس مقدمے کے معاہدے کے لئے 5 لاکھ روپے لئے ہیں؟

کیا تم اس بات کو قبول کرتے ہو؟

پٹھان پر اس بات کا کوئی اثر نہیں پڑا اور وہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا جیسے اس نے کچھ سنا ہی نہ ہو.

"کیا یہ سچ نہیں کہ تم نے اس مقدمے کے معاہدے کے لئے 5 لاکھ روپے لئے ہیں؟" وکیل نے پھر چلاتے ہوئے پوچھا.

پٹھان نے پھر بھی کوئی جواب نہیں دیا.

آخر کار وکیل جج کے سامنے گڑگڑانے لگ گیا اور کہا اس سے کہیں کہ یہ میرے سوال کا جواب دے.

تب جج نے کہا کہ سر پلیج ان کے سوال کا جواب دے.

پٹھان تھوڑا سا حیرانی سے کہنے لگا ، " مجھے تو لگ رہا تھا کہ اتنی دیر سے وہ یہ سب آپ سے پوچھ رہا ہے."

*******************

پٹھان کو کسی جرم میں پولیس پکڑ کر لے گئی.

پولیس افسر نے پٹھان سے پوچھا، "کیا تم لکھ پڑھ سکتے ہو؟"

پٹھان نے جواب دیا، "حضور، لکھ تو سکتا ہوں، پر پڑھ نہیں سکتا."

"اچھا! کاغذ پر اپنا نام لکھیں." پولیس افسر نے کہا.

پٹھان نے کاغذ اٹھا کر اس پر ٹےڑھي- میڑھی لكيرے کھینچ دی اور کاغذ واپس کر دیا.

"یہ تم نے کیا لکھا ہے؟" جھجھلاكر پولیس افسر نے کہا.

پٹھان: صاحب، میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ میں لکھ سکتا ہوں، پڑھ نہیں سکتا.

**********************

ایک بار پٹھان بار میں گیا. وہاں جاکر اس نے بار میں موجود تمام لوگوں جن بار کے مالک بھی شامل تھا ، کے لئے آپ کی طرف سے ایک ایک پیگ وہسکی کا آرڈر دیا .

"آج تمام لوگ میری طرف سے پیو. " پٹھان نے جھومتے ہوئے اعلان کیا.

نصف گھنٹے بعد پٹھان نے پھر سے تمام لوگوں کے لئے ایک ایک پیگ وہسکی کا آرڈر دیا . بار کے مالک کو بھی ایک پیگ اور ملا.

پھر تو ہر آدھے گھنٹے بعد یہی ترتیب چلنے لگا. پانچویں پیگ کے بعد بار کے مالک کو فکر ہونے لگی. اس نے پٹھان کو ایک طرف بلا کر کہا، "بھائی صاحب، آپ ابھی تک بل تین ہزار پانچ سو روپے ہو گیا ہے."

"بل، کیسا بل؟ میرے پاس تو پھوٹی کوڑی بھی نہیں ہے." پٹھان نے جیبیں قے کر دکھاتے ہوئے کہا.

اب تو بار کے مالک کا پارہ ساتویں آسمان پر چڑھ گیا. اس نے لات گھوسو سے پٹھان کی جم کر پٹائی کی اور آخر میں بار کے عملے سے کہہ پٹھان کو باہر پھكوا دیا.

اگلے دن شام کو بار اب کھلا ہی تھا کہ پٹھان اندر آیا اور بولا ، "ایک پیگ وہسکی میرے لئے اور ایک ایک یہاں موجود تمام لوگوں کے لئے میری طرف سے ."

پھر بار کے مالک کی طرف انگلی کر کے بولا ، "صرف تم چھوڑ کر. آپ کو چار پیگ کے بعد بہک جاتے ہو ."

**********************

ایک بار پٹھان کی بیوی میکے گئی ہوئی تھی. پٹھان اسے لینے آپ سسرال گیا. جب بیوی کو لے کر پٹھان سسرال سے واپس آنے لگا تو اس کی ساس نے اس کے ہاتھ میں 20 روپے دے دیئے.

دونوں واپس گھر آ گئے. گھر آنے پر پٹھان کئی دنوں تک اپنی بیوی سے جھگڑتا رہا. اس صحیح طریقے سے بات بھی نہیں کر رہا تھا. ایک دن اس کی بیوی نے اس سے تنگ آ کر پٹھان کو پوچھ لیا، "کیوں جی، جب سے آپ نے مجھے لے کر آئے ہو، آپ مجھ سے جھگڑتے ہی رہتے ہو. ٹھیک سے بات بھی نہیں کرتے، ایسی کیا بات ہو گئی؟"

پٹھان : تمہاری ماں کو کوئی بھی شرم نہیں ہے نہ ؟

بیوی : کیا ہو گیا ؟ ایسا کیوں بول رہے ہو؟

پٹھان : جب میں آپ کو لینے گیا تھا تو پورے 100 روپے کے کیلے لے کر گیا تھا اور تمہاری ماں نے آتے وقت میرے ہاتھ میں 20 روپے تھما دیئے تھے.

بیوی تپاک سے بولی: جی آپ وہاں مجھے لینے گئے تھے یا کیلے فروخت؟

*********************

ایک بار پٹھان جہاز میں ایک نشست پر بیٹھ گیا اور وہاں سے اٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا.

لوگوں نے بہت منت کی لیکن وہ نہ مانا اور بولا، "پٹھان کا کی زبان ایک ہے، ہم اپنا پھےسلا تبدیل نہیں کرے گا."

تبھی ایک آدمی آیا اور پٹھان کے کان میں کچھ بولا تو پٹھان بالکل اٹھ اگلی سیٹ پر بیٹھ گیا.

سب حیران ہو گئے اور اس آدمی سے پوچھا کہ اس نے ایسا کیا کہا جو پٹھان مان گیا.

آدمی نے کہا کہ میں نے پٹھان سے پوچھا کہ آپ کہاں جائیں گے؟

پٹھان نے مجھے کہا، "دبئی"

تو میں نے پٹھان سے کہا، "دبئی کی سیٹ اگلی ہے، یہ تو امریکہ کی سیٹ ہے."

********************

پٹھان اپنی بیلگاڈی میں اناج کے تھیلے لاد کر شہر لے جا رہا تھا. ابھی گاؤں سے نکلا ہی تھا کہ ایک كھڈڈے میں ان کی گاڑی پلٹ گئی. پٹھان گاڑی کو براہ راست کرنے کی کوشش کرنے لگا. تھوڑی ہی دور پر ایک درخت کے نیچے بیٹھے ایک راہگیر نے یہ دیکھ کر آواز دی، "ارے بھائی، پریشان مت ہو، آ جاؤ میرے ساتھ پہلے کھانا کھا لو پھر میں تمہاری گاڑی براہ راست کروا دوں گا."

پٹھان: شکریہ، پر میں اب نہیں آ سکتا. میرا دوست بشیر ناراض ہو جائے گا.

راہگیر: ارے تجھ اکیلے نہیں اٹھے گی گاڑی. تو آجا کھانا کھا لے پھر ہم دونوں اٹھائیں گے.

پٹھان : نہیں، بشیر بہت غصہ ہو جائے گا.

راہگیر : ارے مان بھی جاؤ. آ جاؤ تم میرے پاس .

پٹھان : ٹھیک ہے آپ کہتے ہیں تو آ جاتا ہوں.

پٹھان نے جم کر کھانا کھایا پھر بولا ، " اب میں چلتا ہوں گاڑی کے پاس اور آپ کو بھی چلئے . بشیر ناراض ہو جائے گا ."

راہگیر نے مسکراتے ہوئے کہا، "چلو میں آپ کو اتنا ڈر کیوں رہے ہو؟ ویسے ابھی مل گے بشیر ؟"

پٹھان : گاڑی کے نیچے.

*******************

پٹھان نے کسٹمر کیئر میں فون کیا.

لڑکی نے فون اٹھایا : سر خوش آمدید مے آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟

پٹھان (تھوڑا سا آرام سے ): مجھ سے شادی کرو گی ؟

لڑکی: سر خوش غلط نمبر لگ گیا ہے.

پٹھان : کوئی صحیح لگا ہے پلیج بتاو نا .

لڑکی: مجھے آپ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے.

پٹھان : ارے سنو تو ارےج میرج پر سوٹجرلےڈ کا اور لو میرج پر سگاپر کا ہنیمون پلان ہے .

لڑکی: مجھے آپ سے شادی کرنے کی کوئی دلچسپی ہی نہیں ہے، آپ پلان اپنے پاس رکھو.

پٹھان : اجی سنیں تو، هدو فنکشن وےڈگ پر ڈائمنڈ نےكلےس دوں گا، مسلم پر کان کی بالیاں اور کرسچین وےڈگ کی تو سونے کا کڑا .

لڑکی: چپ کرو مجھے کوئی دلچسپی ہی نهي ہے آپ میں |

پٹھان : اب سمجھ آیا میرا درد ، روز مجھے فون اور میسج کر کر کے کیا کیا آفر دیتے ہو جن میں میری کوئی دلچسپی نہیں ہوتی !

*******************

پٹھان اپنے سکوٹر پر جا رہا تھا ، راستے میں ایک آدمی نے اس سے لفٹ مانگ لی . آگے لال بتی تھی پٹھان نے بڑی تیزی سے سکوٹر نکال دیا واپس بیٹھا آدمی ڈر گیا.

آدمی: پٹھان جی، لال بتی تھی.

پٹھان : ہم پٹھان ہیں سرخ بتی پر نہیں رکتے .

پھر لال بتی آئی پھر فائرنگ، آدمی اور زیادہ ڈر گیا.

آدمی: پٹھان جی مرواوگے کیا لال بتی تھی.

پٹھان : ہم پٹھان ہیں پٹھان لال بتی پر نہیں رکتے .

آگے سبز روشنی آئی تو پٹھان نے زور سے بریک ماری اور وہی رک گیا.

آدمی: پٹھان جی ، اب تو سبز روشنی ہے.

پٹھان : ابی مرواےگا کیا، ادھر سے کوئی پٹھان آ رہا ہوا تو ؟

******************

پٹھان : حکیم صاحب ، میرے دوست کی طبیعت بہت خراب ہے، اسے نیند نہیں آ رہی ہے.
براہ نیند آنے کی کوئی دوائی دے دیجئے .

حکیم : یہ لو پڑیا اور اس میں سے پچیس پیسے کے سکے پر جتنی آئے اتنی رکھ کر پانی سے دے دینا.

اگلے دن پٹھان گھبرایا ہوا آیا.

پٹھان : حکیم صاحب، آپ نے جو دوائی دی تھی اس کھا کر میرے دوست کی موت ہو گئی.

حکیم : وہ کس طرح؟ یہ بتاؤ تم نے دوائی دی کس طرح تھی؟

پٹھان : آپ نے کہا تھا کہ پچیس پیسے کے سکے پر جتنی آئے اتنی رکھ کھلا دینا.
میرے پاس پچیس پیسے کا سکہ تو نہیں تھا . اس لیے میں نے پانچ پیسے کے سکے پر رکھ کر پانچ بار دے دی!

*********************

ایک بار پٹھان اپنی بیگم کے ساتھ میلہ دیکھنے گیا. میلے میں ہوائی جہاز کی سیر بھی کرواتے تھے.

پٹھان نے سوچا کہ چلو ہم بھی ہوائی جہاز کی سیر کر لیتے ہیں لیکن 200 روپے کی ٹکٹ سن پٹھان کا منہ لٹک گیا .

یہ دیکھ کر ڈرائیور بولا ، "آپ ہوائی جہاز میں آدھا گھنٹہ سیر کر سکتے ہیں. اس دوران اگر آپ کے منہ سے آواز نکلی تو میں آپ سے ٹکٹ کے پیسے لوں گا ، نہیں تو یہ سیر آپ کے لئے مفت ."

پٹھان سن کر خوش ہو گیا اور مان گیا .

دونوں جہاز میں بیٹھ گئے اور ڈرائیور نے اپنے جادو شروع کر دیے.
چکر پیدا الٹا گھمایا اور کبھی ڈاو لگائی.

آخر میں اس نے جہاز کو نیچے اتارا.

نیچے اترنے کے بعد ڈرائیور بولا، " مان گئے پٹھان صاحب کو، اس طرح کے كرتبو کے ساتھ تو کسی کی بھی چیخ نکل جاتی لیکن آپ نے تو ایک آواز نہیں نکالی. "

پٹھان نے آپ کی پیشانی سے پسینہ پونچھا اور بولا ، " اب آپ کو کس طرح بتاؤں کہ کس طرح میں نے اپنے آپ کو روکا یہاں تک کہ بیگم کے باہر گرنے پر بھی میں نہیں بولا کیونکہ 200 روپے کا سوال تھا ."

********************


Latest Urdu pathan jokes 2016,Latest Urdu and Pathan Latifey, Udru, pathan, sardar, husband wife, panjabi and many more jokes, funny pathan sms,New Funny Urdu Jokes 2016.


No comments:

Post a Comment